!زندگی کا آخری خوبصورت دور
تحریر: صفیہ بشیر سامی۔ لندن بڑھاپا! میرے ماموں زاد بھائی جان مکرم عبد الباسط شاہد نے میری پہلی تحریر پڑھ […]
تحریر: صفیہ بشیر سامی۔ لندن بڑھاپا! میرے ماموں زاد بھائی جان مکرم عبد الباسط شاہد نے میری پہلی تحریر پڑھ […]
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ! ہمارا ’’ایم ٹی اے‘‘ ایک پھل دار درخت بن چکا ہے۔ جس کی بہت ساری شاخیں دُنیا جہان
محبت کے بیجمیری پیاری خالہ جی صادقہ ماں یا ماسی کہنے سے مُنہ میٹھا ہو جاتا ہے اس سے اچھی
محبتوں بھرے احساناے ماں تجھے سلام کچھ دن ہوئے محترم ایڈیٹر صاحب الفضل (آن لائن) نے مجھے ایک مضمون بعنوان
دو دِن کی ہے کہانی، نفرت سے نہیں جینا!نئے سال میں نئے عہد باندھنے کے لئے ایک رہنما تحریر مکرمہ
تھى عقىدت جو ساتھ کے صاحب الدىن مصباح سردار اباجى حضرت کو صاحب السالم عبد ڈاکٹررسالہ کے پاکستان ذکر کا
میری اُمی جان بہت محبت سے لطف لے لے کر ہمیں قادیان کی باتیں بتاتیں۔ پھر سامی صاحب ملے تو
ماں مٹھاس، ماں خوشبو، ماں ٹھنڈی ہوا، ماں سکون، ماں صبر، ماں ہمت، ماں نعمت، ماں ایک غیر مشروط پیار،
ہمارے مکان میں کچھ تعمیراتی کام ہونے والا تھا جس کے لئے مکان خالی کرنا تھا۔ پروگرام یہ بنا کہ
یہ مضمون میرے شوہر محترم بشیر الدین احمد سامیؔ صاحب مرحوم نے اپنی والدہ صاحبہ کے لئے لکھا ہوا ہےجو