!زندگی کا آخری خوبصورت دور

تحریر: صفیہ بشیر سامی۔ لندن

بڑھاپا!

 میرے ماموں زاد بھائی جان  مکرم عبد الباسط شاہد   نے میری پہلی تحریر پڑھ کر جہاں  خوشی کا اظہار کیا وہاں ساتھ ہی میری تعلیم اور قابلیت کو دیکھتے ہوئے یہ  جُملہ  بھی لکھا ” آپ نے شاید انجانے  میں اتنا بڑا کام کر دیا ہے ’’یعنی حادثاتی لکھاری بن گئی ہو‘‘ اور یہ با لکل میرے بھائی نے میرے لئے صحیح  کہا کہ میں ایک حادثاتی  لکھاری بن گئی ہوں ۔ میرے پاس کوئی دنیاوی یا دینی ایسا علم نہیں کہ میں اپنے آپ کو لکھاری سمجھوں   اور ہر روز کسی  نہ کسی  موضوع   پر لکھنے بیٹھ جاؤں ۔ ہاں  اس بات سے اب  ضرور خوش ہوتی  ہوں  کہ آج تک جو بھی لکھا میرے اپنوں نے میری دلجوئی فر مائی  اور میرے لکھے کو سراہا  جس سے میری حوصلہ افزائی ہوئی اور کچھ نہ  کچھ ہمت بڑھتی رہی ۔

 چلیں  آج پھر اسی قسم کی باتیں  شروع کرتی ہوں جہاں کہیں نہ کہیں نا چاہتے ہوئے میرا اپنا وجود بھی   ضرور شامل ہوجاتا ہے  ۔    

بڑھاپا  اور وہ بھی خوبصورت بڑھاپا! بہت کم لوگوں کو  نصیب ہوتا ہے اور جن کو نصیب ہوتا ہے  وہ بہت خوش قسمت ہوتے ہیں ۔

 اس بڑھاپے  تک پہنچنے  کے لئے کتنی دشواریوں  اور کٹھن راہوں سے گزرنا پڑتا ہے ۔ بہت تو شروع کی زندگی میں ہی اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں اُن کو بڑھاپا دیکھنا نصیب ہی نہیں ہوتا ۔ اللہ جانے اُن کے لئے یہی بہتر ہوتا  ہوگا کہ وہ بہت ساری بُرائیوں اور دُکھوں سے بچ جاتے ہوں گے ۔ 

بچپن میں بڑوں  کو دیکھ کر خو اہش ہوتی کہ ہم کب بڑے ہونگے اور بڑوں کی ڈانٹ ڈپٹ سے جان چھوٹے گی ۔ سکول جاتے ہیں تو استادوں  سے جان چھڑانے کی فکر ہوتی ہے ۔ اسی طرح جب  کالج جاتے ہیں تو تھوڑا  سکون  ملتا ہے۔ سہیلیوں اور میل ملاپ میں   کچھ اچھا وقت گزرتا ہے لیکن ساتھ ہی   تعلیم کے بعد روزی کمانے  کی ذمہ داریاں  اور پھر والدین کا شادی کے لئے اصرار  شادی   اور شادی کے لئے  مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں شادیاں بھی ایسے ہوتی  تھیں کہ والدین ایک لڑکے کی تصویر دکھا کر کہتے  کہ لو  یہ دیکھ لو اس کے ساتھ تمہاری شادی ہے اور کچھ دنوں بعد اُس اَن دیکھے  مرد سے  جو دولہا بن کر  ہمارے گھر آتا ہے اور اُس  لڑکی کو جس کو اُس نے کبھی  بھی  اپنی زندگی میں نہیں دیکھا ہوتا بیاہ کر لے جاتا ہے اور یہ دونوں اجنبی میاں بیوی بن جاتے ہیں  ۔ مَیں یہ تو نہیں   جانتی کہ دوسروں  کو اس طرح انجانے میں  زندگی شروع کرنے میں کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا اس میں عورت یا مرد کی بات نہیں دونوں ہی انجان ہوتے ہیں سوائے اس کے اگر آپ کے خاندانی مراسم ہوں اور  پہلے سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں اور لڑکا لڑکی بھی   کچھ نہ کچھ ایک دوسرے  کے  ساتھ  مل چکے  ہوں یا جان پہچان ہو تو پھر تو کوئی مشکل نہیں البتہ  اصل مشکل اُن کے لئے ہوتا  ہےجو کبھی پہلے نہ ملے   ہوں  اور با لکل بھی نہ جانتے ہوں اور شادی  والے دن ہی شکلیں دیکھیں  اور برداشت کریں  اور زندگی گزاریں  کبھی  بہت خوشگوار اور کبھی دونوں کی  مشکلات سے گھری ہوئی ۔  یہ ہمارے وقتوں کی بات ہے  اب زمانہ بدل چکا ہے ۔

  پھر آہستہ آہستہ زندگی ایک ڈگر پر چلنے لگتی ہے۔ بچوں  کی پیدائش کے بعد تو یوں  بھی  پہلی زندگی کچھ نہ کچھ بھول جاتی ہے اور بچوں  کے ہنگامے اُن کی ذمہ داریاں لڑکی ہے تو بے شمار ذمہ داریوں کے ساتھ ماں باپ بہن بھائیوں  کی یادیں  ستاتی ہیں۔ سسرال  کی  ذمہ داری ادا کرنی بھی ضروری ہوتی ہیں اسی طرح   اگر لڑکے ہیں تو ماں باپ ، بہن بھائیوں   اور فیملی کی ذمہ داریاں  نبھانی ضروری ہو جاتی ہیں غرض ہر انسان کے مختلف حالات ہوتے ہیں اور وہ اُن  کوساتھ  لے کر چلتا ہے۔ اِن ساری ذمہ داریوں میں کبھی کبھی تو ہم اپنے آپ کو بھی بھول جاتے ہیں کہ ہماری اپنی بھی  ذات ہے ہماری اپنی بھی کوئی خواہشات ہیں یا ہماری کوئی شناخت بھی ہے۔ اس میں کوئی مرد عورت کی بات نہیں ہم انسان  مشین  بن جاتے ہیں اور  صبح سے شام اور شام سے صبح ہو جاتی ہے لیکن   ہمارے جسم کی مشین ہے کہ متواتر چل رہی  ہوتی ہے۔ مسائل ہیں کہ ختم ہونے کو نہیں آتے ۔ بعض اوقات ہم بہت خوش حال بھی ہوتے ہیں نوکر چاکر بھی  رکھ لیتے ہیں  ۔ لیکن پھر بھی آپ کو اپنی زندگی کے ساتھ خود ہی لڑنا ہوتا ہے ۔اُلجھی گُتھیاں  خود ہی سلجھانی ہوتی ہیں اپنوں  کا ساتھ  مل جائے  تو کیا ہی کہنے کچھ نہ کچھ  زندگی آسان ہو ہی جاتی ہے اور بعض اوقات اپنوں کا ساتھ بھی عذاب بن جاتا ہے  ۔  غرض سب کے حالات مختلف ہوتے ہیں ۔

الحمد للہ! اللہ تعالیٰ کے فضل سے  ہمیں احمدی ہونے کے ناتے   زندگی  کے بکھیڑوں سے کچھ  وقت کے  لئے چھٹکارا مل جاتا ہے ۔ جماعت احمدیہ میں  خدا کے فضل و کرم سے  تمام عمر کے لوگوں کے لئے الگ الگ سے  تنظیمیں ہیں  جہاں  سب کو  اپنی اپنی ڈیوٹیاں  ادا کرنی ہوتی ہیں   اس طرح ہم گھروں سے نکل کر مسجدوں میں یا جو بھی ہمارے مرکز بنے ہوئے ہیں  وہاں جانا ہو تا ہے  اور دین کا کام کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اپنی ڈیوٹیاں نبھانی ہوتی ہیں ۔ جن میں 15  سال تک کی بچیوں کو    ناصراتُ  الاحمدیہ  اور لڑکوں  کو اطفالُ الاحمدیہ  پھر خدام  الاحمدیہ  چالیس سال کی عمر کے بعد مردوں کو انصار اللہ  کہا جاتا ہے ۔ لیکن ماشا ء اللہ  ہم عورتیں 15 سال کی عمر کے بعد ہمیشہ لجنہ اماءللہ  ہی کہلاتی ہے اُن کے لئے پھر عمر کی کوئی قید نہیں ہے ۔الحمد للہ

یہ تنظیمیں ہماری تعلیمی تربیت گاہیں بھی ہیں اور ہمارے لئے  میل ملا قات  کا   ذریعہ بھی   ہیں  ۔ بہت بار یہاں ہمارے بچوں کے رشتے ناتےبھی طے پا جاتے  ہیں ۔ غرض ہمیں اپنی جماعت احمدیہ کے ساتھ جڑے رہنے سے اِن تنظیموں سے  ہزاروں فائدے ہوتے ہیں ۔ا نہی راستوں سے گزرتے ہوئے زندگی  کی   کبھی آسان اور کبھی دشوارسیڑھیاں چڑھتے  ہوئے کبھی آسانی سے اور کبھی انتہائی مشکل سے لیکن اللہ تعالیٰ  کا ساتھ ہو اور  اللہ تعالیٰ پر توکل ہو  تو سب منزلیں  آسان ہوتی جاتی ہیں ۔ اور اسی طرح  ہم بچپن جوانی   اور اپنی ڈھلتی عمر کو  پہنچ جاتے ہیں اب ڈھلتی عمر کا ذکر کیا ہے تو  ظاہر ہے  اس میں اُن ذمہ داریوں کا بھی  شامل ہونا ہے کہ بچوں کی شادیاں کبھی بیٹی کا  بیاہ   کیا تو گھر سونا ہو گیا  اُس کی یاد اور جدائی   سہنی پڑتی ہے جب بیٹے کی شادی کی تو بہو گھر آ گئی  گھر میں پھر خوشیاں دو بالا ہو جاتی ہیں ننے منے بچوں سے  گھر میں مزید رونقیں بڑھ جاتی ہیں جب یہ سب رونقوں کی وجہ سے گھر چھوٹا  پڑ جائے  تو بیٹے  اپنے اپنے  نئے ٹھکانے  بنا لتے ہیں ۔    ماشاء اللہ  خاندان بڑھ  جاتے  ہیں  اور  گھر زیادہ ہو  جاتے ہیں۔   وہ گھر جو دو میاں بیوی نے مل کر  محبتوں اور پیار کا    بیج بویا تھا   اُ نہوں نے جڑیں  پکڑیں شاخیں نکلیں   درخت بنے پھل لگے اور اس طرح اُن  سے اور پھل دار درخت بنتے گئے اور زندگی کا کارواں چلتا رہا ۔الحمد للہ

یہ خوشیاں مناتے  زندگی کی دوڑ میں ہانپتے ہوئے میاں بیوی  پھر اپنے اُسی گھر میں دونوں  کئی چھوٹی موٹی بیماریوں کے ساتھ   اکیلے    ہلکی پھلکی نوک جھونک کے  ساتھ  کبھی گھٹنوں کی درد سے اور کبھی کمر پکڑ کر  ایک تیسرے سہارے  یعنی  ( سوٹی) کے ساتھ  بہت ہی مزے دار سی زندگی گزارنی شروع کرتے ہیں کبھی میاں صاحب ایک دو بسکٹوں کے ساتھ   چائے کی پیالی  بنا کر  اپنی بیگم کو دیتے ہیں جس میں بیگم صاحبہ   چائے کا رنگ دیکھ کر  میاں کو ہلکا سا ڈانٹ دیتی ہیں آپ کو ابھی تک چائے بھی بنانی نہیں آئی ۔ یا بیگم اپنے  شوہر  کے لئے کچھ کریں تو محترم تعریف کے دو لفظوں سے دل جیت لیتے ہیں ۔ یہاں مجھے اپنے اُمی ابا جان  کی باتیں یاد آتی ہیں جب دونوں اپنے فلیٹ میں اکیلے رہتے تھے  چھوٹی چھوٹی اُن کی نوک جھونک  ہمیں بہت اچھی لگتی تھی مزا بھی آتا تھا  میری امی جان کی وفات پہلے ہو گئی بعد میں میرے اباجان  نے دو سال    جدائی کے بہت مشکل سے گزارے ۔غرض  ہر گھر کی ایک مختلف کہانی ہوتی ہے اور  ان دونوں کے لئے مشکلات کا دور اُس وقت شروع ہوتا ہے جب دونوں  میں سے ایک ساتھ چھوڑ دیتا ہے ۔  اگر شوہر  یعنی مرد اکیلا رہ جائے تو اُس کی زندگی  عورت کی نسبت  بہت مشکل ہوتی ہے ۔ وہ کھل کر اپنی  بات  بیٹیوں سے بہوں سے کسی ہمسائے  سے  نہیں کر پا تا ہر بات اُس کی دل   کی دل میں  رہ جاتی ہے اُس کی نسبت عورتیں پھر بھی  اپنی بات  کاکسی حد تک اظہار کر پاتی ہیں ۔ لیکن سب کے حالات مختلف ہوتے ہیں ۔  یہاں پھر ہماری جماعت  بہت سی مشکلوں کا حل بن جاتی ہے ۔ مثال کے طور پر  اکثر مرد حضرات ریٹائر منٹ کے بعد   جماعت میں اپنا نام  اور وقت پیش کر دیتے ہیں  جہاں  اپنی قابلیت کے لحاظ سے ڈیوٹیاں  ادا کرنے کا موقع مل جاتا ہے  اور عورتیں بھی   اِن کاموں میں حصہ لے کر اپنی زندگیوں کا  مصروف ترین اور کار آ مد وقت   گزار لیتی ہیں ۔ الحمد للہ

ہاں  مشکل تب پیدا ہوتی ہے جب  وہی دو انسان جن کو اُن کے والدین  نے  اپنی عقلمندی اور سمجھداری سے اپنے بچوں پر بھروسہ کرتے ہوئے    دو اجنبی بچوں کو رشتہ ازداوج میں منسلک کر دیا ہوتا ہے  ۔ اور پھر  جب وہ ایک دوسرے کو نا جانتے  ہوئے ایک جان   سے ایک روح بن جاتے ہیں  ایک دوسرے کی زندگی کے ساتھی  اور سہا را بن  جاتے ہیں  ۔ ایک دوسرے کے بغیر زندگی کا تصور ختم ہو جاتا  تب وہی  جو اجنبی تھا۔ جو والدین نے صرف اپنے  ربّ کی رضا  پر بھروسہ کرتے ہوئے یہ جوڑ بنائے تھے  وہ  ساتھ چھوڑ جائے تو زندگی میں ایکدم اندھیرا چھا جاتا ہے ۔ زندگی کا مشکل ترین دور شروع ہو جاتا ہے ۔  پھر   ہمیں  دوسرے لوگوں کے سہاروں کی ضرورت پڑ جاتی ہے  تو اصل بڑھاپا شروع  ہو جاتا ہے  جب بچوں کے پاس وقت نہیں ہوتا   سب  اتنے مصروف ہو جاتے ہیں یہ نہیں کہ وہ  خیال نہیں رکھتے  ،رکھتے ہیں لیکن  اُن کی مجبوریاں  بھی اپنی جگہ ہوتی ہیں ۔

احمدی ہونے سے   جہاں روحانی مائدہ ملتا ہے وہاں بوڑھے ہونے یا  بیوہ ہونے کے حساب سے  ہر عید پر عیدی بھی ملتی ہے اور اکثر بوڑھے  لوگوں کے گھروں میں فون کر  کے حالات بھی معلوم کئے جاتے ہیں  کوئی  بھی کسی کو مدد کی ضرورت ہو پوری کی جاتی ہے ۔  لیکن ہاں یہ بھی سچ ہے کہ جب آپ اکیلے ہوجاتے ہیں بیوہ مرد ہو یا عورت  وہ بڑھاپا  بہت تکلیف دہ بھی ہو جاتا ہے اُس میں  کسی کا کوئی قصور نہیں ہوتا وہ یادوں کے بھنور میں اپنی زندگی کے ساتھی کی خوشگوار یادوں میں یا وہ نوک جھوک جو زندگی میں تو تکلیف دہ تھی مگر وہی باتیں معمولی لگتے ہوئے ہونٹوں پر مسکراہٹ  لے آتی ہیں یعنی اب آپ ہزاروں میں بھی اکیلے ہوتے ہیں اور یہی بڑھاپا جن کو نصیب ہوتا ہے وہ اپنے جیسے دُکھی دلوں کا درد بہت اچھی طرح جانتے ہوئے ہر وقت دُعاؤں میں رہتے ہیں ۔چھپ چھاپ  زیادہ تر سجدوں میں اللہ کے آگے سر بسجود رہتے ہیں ۔ اپنے دُکھ  تکلیفیں  اللہ کے آگے رکھتے ہوئے اپنی بخشش کی بھیک مانگتے ہیں  اور یہی بڑھاپا  ہے جو دُعاؤں  میں مزا دیتا ہے  اور سعادت ہے کہ ہم اس عمر میں  پہنچ کر حقیقت میں دوسروں کا  دُکھ محسوس کر سکتے ہیں اور  دل کی گہرائی سے دُعا بھی کر سکتے ہیں  اور اللہ سے التجا بھی کہ وہ ہماری کمزور دعاؤں کو قبولیت بخشے۔ آ مین

اس میں بھی کوئی شک کی بات نہیں  کہ زندہ ہونے کے باوجود  ہزاروں لوگوں کی موجودگی  میں بھی  تنہائی کا مارا انسان   اپنے اندر کی   تنہائی  سے اکیلا پن محسوس کرتے ہوئے     بار بار اور ہر روز  اپنے آپ کو  مر تے ہوئے  دیکھتاہے ۔ لیکن اللہ اپنے بندوں کا ہمیشہ  ساتھی بنا رہتا ہے  اور کبھی اپنے بندوں کو بے سہارا نہیں چھوڑتا یہ  ہمارے ربّ کے کرم ہیں ہم سب پر ۔ الحمد للہ

 لکھنے سے پہلے جانے کیا سوچ کر یہ مضمون لکھنا شروع کیا تھا اور نا جانے کیا لکھ گئی ہوں  نہیں جانتی یہ میرے اندر کی کہانی ہے یا جو میرے اِرد گرد جن لوگوں کو میں دیکھتی ہوں اور سُنتی ہو اُن کی  کہانیاں ہیں ۔ ہا ں لیکن کچھ نہ کچھ ہے ضرور ۔ اللہ پاک ہم سب پر اپنا کرم فر مائے اور اپنی رضا پر رہتے ہوئے محتاجی اور لاچاری کی زندگی سے بچاتے ہوئے اپنی رضا پر شاکر رہتے ہوئے  جو وقت اللہ کے نزدیک بہترین ہو اُس وقت ہمارا انجام بخیر ہو ۔ اور قرآن پاک  کی یہ دعا  ہماراستقبال کرے کہ:۔

یٰۤاَیَّتُہَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَئِنَّۃُ ارۡجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرۡضِیَّۃًفَادۡخُلِیۡ فِیۡ عِبٰدِیۡ وَادْ خُلِیْ جَنَّتِیْ (الفجر)

 اے نفسِ مطمئنہ ! اپنے ربّ کی طرف لوٹ جا، راضی رہتے ہوئے  اور رضا پاتے ہوئے۔  پس میرے بندوں  میں داخل ہو جا ۔  اور میری جنت میں داخل  ہو جا ۔آ مین اللھم آ مین ۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top